چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلباء تقریباً دو سال بعد چین واپس جا سکیں گے۔

یہ پیشرفت وزیر اعظم عمران خان کے ملک کے دورے کے بعد ہوئی جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سمیت چینی قیادت سے ملاقات کی۔

ملاقاتوں کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق چین پاکستانی طلباء کی چینی یونیورسٹیوں میں تعلیم دوبارہ شروع کرنے کے لیے واپسی کا انتظام کرے گا۔

تینتیس نکاتی مشترکہ بیان میں دفاعی تعاون، بھارتی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان سمیت متعدد امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بھی ٹویٹ کیا کہ طلباء جلد ہی اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکیں گے۔

ان طلباء کو 2020 میں اس وقت چین سے واپس بلایا گیا تھا جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تھی۔ تب سے وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

طلباء کی نمائندگی کرنے والے آدم علی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ حکومت نے کوئی تاریخ نہیں دی لیکن کہا کہ چین ان کی واپسی کا انتظام کر رہا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلباء کی جلد واپسی کو یقینی بنانے کے لیے اس مسئلے کو ترجیح دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: