جمعہ کے روز، سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا جس نے 38 سال بعد طلبہ یونینوں کو منظوری دی۔ صوبائی اسمبلی نے طلباء کی نمائندگی کا بل منظور کر لیا ہے۔

مجوزہ قانون، سندھ اسٹوڈنٹس یونین بل 2019، وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے پیش کیا۔ جسے اسمبلی میں سب نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

بل میں چند اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے:

تعلیمی ادارے دو ماہ میں طلبہ یونین کے قواعد و ضوابط طے کریں گے۔
طلباء 7 سے 11 نمائندوں کی یونین کا انتخاب کریں گے۔
تعلیمی ادارے ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات کرائیں گے۔
طلبہ یونینز کو تعلیمی اداروں کی سینیٹ سنڈیکیٹ میں نمائندگی دی جائے گی۔

اجلاس ختم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اپوزیشن سمیت تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد دی اور ریمارکس دیئے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جمہوریت لانے سے مستقبل میں بہتر لیڈر آئیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: